Aside

Balcony.

Neon lights in balcony, dark room and when the fan has stridor; I am thinking. Last time I made a conscious effort to think was ages ago. I am thinking what ishq e haqiqi entails. This is funny how at 23 you get your life all figured out. You know what primaries are and why secondaries are nothing but stupid crabby metastasis eating you inside out. I might have been happier at some point in my life but this is different. This is an admixture of feeling all things positive at once. Serene. Liberating. Light as a feather.  I know I will die a happy person if I die tonight. Please excuse me if I get all Urdu-ish from this point onwards. For some reasons, I have been thinking in Urdu lately. I like how these verses in Urdu taste on my tongue how the words come out from Broca’s even before you start noticing. Is this what mother tongue is all about? Is this why swearing and crying for help is always better in your own language? May be!

عشق مجاز پاکستان سے حجاز تک بس ایک سیڑھی ہی تو ہے عشق حقیقی تک پہنچنے کی۔ کچھ لوگ بڑی پھرتی سے یہ منزل پھلانگ کر چلتے بنتے ہیں، کچھ اسی سیڑھی پر طنابیں، قناطیں گاڑ کر زمیں جنبد، غلام رسول نہ جنبد کی عملی اور کافی حد تک بھیانک تصویر بنکر صدر کے فٹ پاتھوں پر دل اور چیسٹ ایکس رے روشن کردینے والی سیگرٹ کے مزے لیتے رہتے ہیں۔ بات ہورہی تھی عشق حقیقی تک پہنچا دینے والے عشق مجازی کی۔ اگر یہی مقصود ٹہرا تو فوراً سے پیشتر ایک محبوب ڈھونڈ لیجیئے۔ آج کل بہت ہی سستے محبوب فیس بوک اور ٹویئٹر پہ بھی مل جاتے ہیں۔ قیمت وہی، چند ری ٹوئیٹ اور حسین تصاویر پہ دلکش کمنٹس۔ لیجیئے محبوب آپ کی جیب میں پڑے موبائل میں۔ مبارک ہو اب آپ کی نمازوں میں متحان میں کامیابی کے ساتھ ایک نامحرم کے محرم بننے کی دعائیں بھی شامل ہوچکی ہیں۔ حاضر جمع رکھیے اور یہی محبوب جب ٹوئیٹر کی نیلی چڑیا کی طرح اڑ کر کسی دوسرے شجر پہ بیٹھ جائے تو بجائے ’وہ میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں‘ گا کر سریلی آواز میں رونے کے بجائے اپنے اور اپنے محبوب پر ہنس لیجیئے۔ اپنے اوپر تھوڑا زیادہ۔ حماقتوں کے اشتہارات لگا کر فارغ ہوجائیں تو جأنماز خود ہی بچھ جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہےجہاں آپ انسان بننے کا عزم کرتے ہیں، تائب ہوتے ہوتے ہیں۔ اور جب اسی رونے دھونے میں کہیں آپ کی امی جان کو خبر ہوجائے تو خدا کے ساتھ ساتھ ماں بھی مہربان ہوجاتی ہے۔ پھر جب ایک دفعہ ماں کی گود میں دل کھول کے رکھ دو تو سمجھ نہیں آتا کہ خدا ماں ہے یا ماں خدا ہے